حدیث میں شیطان سے ڈرایا گیا ہے اور اس بات پر متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ انسان کے تمام افعال میں اس کے ساتھ ساتھ رہتا ہے۔ چنانچہ مناسب یہ ہے کہ انسان (اس سے مقابلے کے لیے) تیار اور اس سے چوکنا رہے اور اس کی مزین کردہ باتوں سے دھوکا نہ کھائے۔ انسان کے سامنے جو کھانا آتا ہے اس میں برکت ہوتی ہے اور اسے معلوم نہیں ہوتا کہ برکت کھانے کے اس حصے میں ہے جسے اس نے کھا لیا ہے یا پھر اس حصے میں جو اس کی انگلیوں پر لگا ہے یا جو پلیٹ کے پیندی میں لگا رہ گیا ہے یا پھر اس لقمے میں جو نیچے گر گیا ہے۔چنانچہ انسان کو چاہیے کہ وہ ان سب کو ضائع ہونے سے بچائے تاکہ اسے برکت حاصل ہو سکے۔ برکت کا حقیقی معنی ہے بھلائی کا زیادہ ہونا، اس کا باقی رہنا اور اس سے نفع اٹھانا۔ یہاں مراد وہ کھانا ہے جس سے غذائیت حاصل ہو، جس میں کوئی گندگی نہ ہو اور جو اللہ تعالی کی اطاعت گزاری کی قوت پیدا کرے۔ ڈاکٹر حضرات کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا کھاتے ہوئے ایسی شے نکلتی ہے جو کھانے کو ہضم کرنے میں مدد کرتی ہے۔