ابلیس اپنے تخت یعنی تختِ شاہی کو پانی پر رکھتا ہے، پھر جنوں میں سے اپنے لشکریوں کو بھیجتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں اور انہیں گمراہ کریں، تو مرتبے کے اعتبار سے ابلیس کا سب سے قریبی وہ شیطان ہوتا ہے جو لوگوں کو گمراہ کرنے میں سب زیادہ بڑھا ہوا ہو، ان شیاطین میں سے ایک آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے ایسا اور ایسا کیا یعنی مثال کے طور پر میں نے چوری کا حکم دیا اور شراب پینے پر ابھارا وغیرہ، تو ابلیس اس سے کہتا ہے: تو نے کوئی بہت بڑا کام نہیں کیا یا یہ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جس کو کارنامہ شمار کیا جائے، یہاں تک کہ انہیں شیطانوں میں سے ایک اور آتا ہے اور ابلیس سے کہتا ہے: میں نے فلاں کو نہیں چھوڑا یہاں تک کہ اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان تفریق کرادی اور شوہر نے بیوی کو طلاق دے دیا، ابلیس اسے اپنے قریب کر لیتا ہے اور اسے اپنے سے چمٹا کر اس کا معانقہ کرتا ہے، اور اس سے کہتا ہے: ”ہاں! تو ہے“ یعنی تو ہی وہ شیطان ہے جس نے میری چاہت پوری کر دی اور لوگوں کو گمراہ کرنے اور ان کے مابین فساد برپا کرنے کی میری آرزو و خواہش کو عملی جامہ پہنا دیا۔