یہ خطبہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی ﷺ میں آپ ﷺ کے منبر شریف پر کھڑے ہو کر دیا اور اس میں انھوں نے ہر اس شے کو خمر قرار دیا، جو عقل کو زائل کر دیتی ہو۔ چنانچہ ”خمر“ کا اطلاق صرف اس شراب پر نہیں ہوتا، جو انگور سے بنائی گئی ہو، بلکہ ہر وہ نشہ آور مشروب خمر کہلاۓ گا، جو کھجور، شہد یا گندم سے تیار کردہ ہو۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطبے میں فرمایا کہ تین مسائل ایسے ہیں، جن میں لوگوں کو اشکال پیش آتا ہے اور ان کی تمنا ادھوری رہ گئی کہ نبی ﷺ ان تین مسائل کے بارے میں اپنی امت کو کوئی ایسی وصیت فرما جاتے،جس کی طرف وہ رجوع کر سکتے۔ یہ تین مسائل یہ ہیں: دادا کی میراث، ہر اس شخص کی میراث جس کی نہ اولاد ہو اور نہ ہی والد اور سود کے کچھ مسائل۔ الحمدللہ ان تینوں مسائل کا حکم معلوم ہے۔ اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ نبی ﷺ نے انھیں بیان نہیں فرمایا۔ آپ ﷺ نے رسالت کی ذمہ داری پوری فرمادی، امانت ادا کر دی اور اللہ تعالی کی وہ باتیں بھی پہنچا دیں، جو ان تینوں امور سے کم اہمیت کی حامل تھیں۔ در اصل عمر رضی اللہ عنہ یہ چاہتے تھے کہ ان امور میں کوئی ایسی صریح اور واضح نص ہوتی، جس میں اجتہاد کی گنجائش نہ ہوتی۔