صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا فعل اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا جائز ہے؛ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ تاہم کھانے پینے کے معاملے میں افضل یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے پیے؛ کیوں کہ زیادہ تر نبی ﷺ کا یہی طریقہ تھا۔ کھڑے ہو کر پینے کے بارے میں تو نبی ﷺ کی حدیث بھی آئی ہے کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا، لیکن یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ممانعت حرمت کے بیان کے لیے نہیں ہے، بلکہ اس سے بس یہ وضاحت ہوتی ہے کہ ایسا کرنا خلاف اولی ہے، بایں معنی کہ زیادہ بہتر اور زیادہ درست تو یہی ہے کہ انسان بیٹھ کر کھائے اور پیے، تاہم اگر وہ کھڑے کھڑے کچھ کھا پی لے، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں ہے۔