مفہوم حدیث: نبی ﷺ کے پاس سے دو آدمیوں کا گزر ہوا۔ ان میں سے ایک کا تعلق معزز لوگوں سے تھا جس کا ان میں اثرورسوخ تھا۔ یہ ایسا شخص تھا کہ اگر کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اس کا پیغام قبول کیا جاتا اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی جاتی۔ جب کہ دوسرا شخص اس کے بالکل برعکس تھا۔ اس کا تعلق کمزور مسلمانوں میں سے تھا جس کی کوئی حیثیت نہیں تھی۔ اگر وہ کہیں پیغام نکاح بھیجتا تو اسے قبول نہ کیا جاتا، اگر کوئی سفارش کرتا تو اس کی سفارش قبول نہ کی جاتی اور اگر کوئی بات کہتا تو اس کی بات سنی نہ جاتی۔ نبی ﷺ نے فرمایا: ”یہ (غریب) شخص اس (پہلے) شخص جیسے زمین بھر کے لوگوں سے بہتر ہے“ یعنی یہ شخص اللہ کے نزدیک اس شخص جیسے دنیا بھر کے لوگوں سے بہتر ہے جو اپنی قوم میں جاہ و منزلت رکھتا ہے کیونکہ اللہ سبحانہ و تعالی عزت و جاہ، حسب و نسب، مال و دولت، شکل و صورت، لباس، سواری اور گھر بار کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ دل اور عمل کو دیکھتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں آیا ہے: ”اللہ تعالیٰ تمہاری شکلوں اور تمہارے مال و دولت کو نہیں دیکھتا، بلکہ وہ تمہارے دلوں اور تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے“۔ (صحیح مسلم) جب بندے اور اللہ کے مابین دل کی اصلاح ہوجاتی ہے، وہ اللہ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے، اور وہ اللہ کا ذکر کرنے والا اور اس سے خوف کھانے والا ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ عز وجل کو راضی کرنے والے اعمال کرتا ہے تو ایسا شخص ہی اللہ کے ہاں معزز اور صاحب منزلت ہے۔ اور یہی وہ شخص ہے جو اگر اللہ پر قسم کھا لے تو اللہ تعالی اس کی قسم کو پوری کردیتا ہے.