اس حدیث میں بچے کے مفادات کا خیال کرنے کا بیان ہے اور ایسا اس وجہ سے کہ اس عورت کو اس کے شوہر نے طلاق دے دی، اور اس کا بیٹا اس کے ساتھ رہا، اس عورت کی حاجت کے با وجود اس کا شوہر اس کے بیٹے کو لے جانا چاہتا تھا اور اس کی پرورش اور دیکھ بھال میں رکاوٹ بن رہا تھا، حالانکہ و ہ بچہ بھی باپ کی عدم قدرت کی بنا پر اس ماں کی حفاظت ونگرانی کا ضرورت مند تھا، تو اس وقت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے خبر دیا، جو نبی ﷺ سے سنا تھا، اسی جیسی عورت کے حق کے بارے میں ، کیونکہ پرورش ایسی ذمہ داری ہے جس کے ذریعہ بچے کی پرورش اور اس کے مفادات کا خیال کیا جاتا ہے، بچہ سنِ تمیز سے پہلے اپنی ماں کے پاس رہے گا، جب تک کہ اس کی ماں شادی نہ کر لے، جب سن تمیز کو پہنچ جائے اور اپنے بعض معاملات میں خود مختار ہو جائے، یعنی بہت سارے معاملات میں خود مختار ہو جائے، اس وقت ماں اور باپ اس کی پرورش میں برابر کے حق دار ہوں گے، ایسی صورت میں اس بچے کو اختیار دیا جائے گا، ان میں سے جس کسی کے پاس جانا چاہے وہ اسے لے گا۔