حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ نبی ﷺ کے پاس والدین کے مابین بچے کی حضانہ (پرورش سے متعلق نزاع) کا مسئلہ آیا جن میں سے ایک یعنی باپ مسلمان تھا ور دوسرا یعنی ماں کافر تھی۔ اپنی بیٹی کے بارے میں نبی ﷺ کے پاس ان دونوں کے مابین نزاع پیدا ہو گیا۔ نبی ﷺ نے بچی کو ماں باپ کے مابین اختیار دیا تو اس نے ماں کو اختیار کرنا چاہا جو کہ کافر تھی۔ اس پر نبی ﷺ نے دعا فرمائی کہ "اے اللہ! اس بچی کو ہدایت دے"۔ یعنی صحیح کی طرف اس کی راہنمائی فرما۔اللہ تعالی نے اپنے نبی ﷺ کی دعا کو قبول فرما لیا اور اس بچی نے مسلمان باپ کو چن لیا۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بچے کا کافر کی نگہداشت اور پرورش میں رہنا اللہ تعالیٰ کی رہنمائی کے برخلاف ہے۔ کیونکہ پرورش میں دیے جانے کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بچے کی تربیت ہو اور ہر قسم کے ضرر کو اس سے دور رکھا جائے۔ جب کہ سب سے بڑی تربیت اس کے دین کی حفاظت ہے اور اس کا سب سے بڑا دفاع یہ ہے کہ اس سے کفر کو دور رکھا جائے۔ جب بچہ کافر کی پرورش میں ہوگا تو وہ اسے اس کے دین سے پھیر دے گا اور اسے کفر کی تعلیم و تربیت دے کر اسلام سے نکال دے گا جو کہ سب سے بڑا ضرر ہے ۔ پرورش تو ہوتی ہی بچے کی حفاظت کے لیے ہے چنانچہ اس کی کوئی بھی ایسی صورت جائز نہیں جس میں بچے کی ہلاکت ہو یا اس کے دین کا ضیا ع ہو۔