اس حدیث میں ایک لڑکی کے قبول اسلام کی وجہ کو بیان کیا جا رہا ہے۔ اس کے قبیلے کی طرف سے اس پر ایک چھوٹے سے ہار کی چوری کی تہمت لگائی گئی جس کو ایک چیل سرخ رنگ کی وجہ سے لے اڑی تھی۔ قبیلےوالے اس کے کپڑے اتار کر اس کی تلاشی لی۔اللہ کی قدرت کہ عین تلاشی کے وقت اس چیل نے وہ ہار ان کے درمیان پھینک دیا تو وہ اس کی بے گناہی کو جان گیے۔ وہ لڑکی رسول اللہ ﷺ کے پاس آئی اور اُس نے اسلام قبول کر لیا اور گھر چھوٹا ہونے کی وجہ سے اسے مسجد میں رہائش دے دی گئی۔ وہ اس حادثہ کو ہمیشہ اُم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتی اور اس حادثہ کی مناسبت سے یہ شعر پڑھا کرتی: وَيَوْمَ الْوِشَاحِ مِنْ أَعَاجِيبِ رَبِّنَا --- أَلَا إِنَّهُ مِنْ بَلْدَةِ الْكُفْرِ أَنْجَانِي۔(کمر بند کا دن ہمارے رب کی عجیب نشانیوں میں سے ہے۔ اسی نے مجھے کفر کے ملک سے نجات دی) یعنی کمر بند ملنے والا دن اللہ تعالیٰ کی عجیب قدرتوں میں سے ہے کہ اس نے مجھے اس واقعہ کے بعد کفر کے ملک سے بچالیا۔