اسلام نے لعان کو ایک معاشرتی مسئلے کا حل پیش کرنے کے لیے مشروع کیا ہے، اور وه مسئلہ یہ ہے کہ اگر شوہر كسی کو دیکھےكہ اس کی بیوی کے ساتھ زنا کر رہا ہے اور اس کے پاس گواہ نہ ہوں تو وہ لعان کا سہارا لے گا۔ لیکن محض شک اور وسوسے کی صورت میں وہ ایسا نہیں کرے گا، بلکہ ایسا اس وقت ہوگا جب وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لے۔ اس لیے کہ لعان کے بارے میں بڑی وعید آئی ہے۔ جس شخص کا یہ قصہ ہے اسے گویا اپنی بیوی کی حالت مشکوک ومشتبہ محسوس ہوئی اور اسے اندیشہ لاحق ہوا کہ اس سے بدکاری کا ارتکاب نہ ہو جائے۔ چنانچہ وہ اپنے معاملے میں تذبذب کا شکار ہوگیا۔ کیونکہ اس پر تہمت لگانے کی صورت میں اگر وہ گواہ نہ لا سکا تو اس پر حد لاگو ہوتی اور اگر چپ رہتا تو یہ دیوثیت اور باعث عار بات تھی۔ چنانچہ اس نے اپنے ان خیالات کا اظہار نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ آپ ﷺ نے اسے کوئی جواب نہ دیا کیونکہ آپ ﷺ کو یہ ناپسند تھا کہ کسی شے کے وقوع پذیر ہونے سے پہلے اس کے بارے میں پوچھا جائے اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کہ یہ برائی میں جلدی کرنے اور اس کی ابتداء کرنے کی قبیل سے تھا اور مزید یہ کہ نبی ﷺ پر اس معاملے میں کوئی حکم نازل نہیں ہوا تھا۔ بعدازاں اس سائل کو اپنی بیوی سے جس زنا کا اندیشہ تھا اسے اس نے دیکھ لیا تو اس کے حکم اور اس کی بیوی کے حکم کے بارے میں اللہ تعالی نے سورۂ نور کی یہ آیات نازل فرمائی: ﴿وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُم﴾ ”جو لوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لگائیں“ (النور: 60)۔ نبی ﷺ نے ان آیات کو اس شخص پر تلاوت فرمائی اور اسے وعظ و نصیحت کی کہ اگر وہ اپنی بیوی پر تہمت لگانے میں جھوٹا ہے تو جان لے کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ قذف ہے -، آخرت کے عذاب سے ہلکا ہے۔ اس شخص نے قسم اٹھائی کہ اس نے اپنی بیوی پر زنا کا جھوٹا الزام نہیں لگایا۔ پھر آپ ﷺ نے اس کی بیوی کو بھی نصیحت فرمائی اور اسے بتایا کہ دنیا کا عذاب - جو کہ حدِ زنا یعنی رجم ہے - وہ آخرت کےعذاب سے ہلکا ہے۔ اس نے بھی قسم اٹھائی کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے۔ اس پر نبی ﷺ نے دونوں میں سے اس سے ابتدا کی جس سے اللہ نے ابتدا کی ہے یعنی شوہر سے۔ چنانچہ اس نے چار دفعہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ اس نے اس عورت پر جو الزام لگایا ہے اس میں وہ سچا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہو تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر آپ ﷺ عورت کی طرف متوجہ ہوئے۔ اس نے بھی چار دفعہ اللہ کی قسم اٹھا کر گواہی دی کہ وہ شخص جھوٹا ہے اور پانچویں بار میں اس نے کہا کہ اگروہ اپنے دعوے میں سچا ہو تو اس پر اللہ کا غضب نازل ہو۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جدائی کرا دی۔ چوں کہ ان میں سے ایک جھوٹا تھا اس لیے نبی ﷺ نے انہیں توبہ کرنے کی پیش کش کی۔ شوہر نے اپنا حق مہر طلب کیا تو آپ ﷺ نے اس سے فرمایا: تمہیں حق مہر واپس نہیں ملے گا۔ اگر تم اپنے اس دعوی میں سچے ہو کہ اس عورت نے زنا کیا ہے تو یہ حق مہر تمہارا اس کی شرم گاہ کو حلال کرنے کے عوض ہو جائے گا کیونکہ وطی سے حق مہر ثابت ہو جاتا ہے۔ اور اگر تم نے اس پر جھوٹا الزام دھرا ہے تو پھر حق مہر تمہاری دسترس سے اس عورت سے اور بھی زیادہ دور ہے کیونکہ تم نے اس پر یہ بہتان عظیم لگایا ہے۔