اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ صحابیٔ رسول ﷺ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائی کہ اس نے شریک بن سمحاء کے ساتھ زنا کیا ہےجب کہ اس کا حمل بھی ظاہر ہو چکا تھا۔ چنانچہ ان کا مقصد یہ تھا کہ وہ لعان کر کے بچے کی اپنے نسب سے نفی کر دیں۔ لعان کچھ گواہیوں کا نام ہے جو میاں بیوی کے مابین ہوتی ہیں اور ان کی تاکید قسم اور ہر اس فریق پر لعنت کے ساتھ کی جاتی ہے جو جھوٹا ہو۔ پھر آپ ﷺ نے کچھ ایسی نشانیاں بتائیں جن کے ذریعے یہ معلوم ہو سکتا تھا کہ آیا وہ اپنے باپ کا بچہ ہے یا پھر اس شخص کا بچہ ہے جس کی وجہ سے وہ عورت حاملہ ہوئی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر اس کے بال سیدھے اور کامل ہوں تو وہ اپنے باپ کا بچہ ہو گا کیونکہ اس صورت میں ان دونوں کے مابین مشابہت ہو گی۔ اور اگر وہ سرمئی آنکھو ں والا ہوا یعنی اس کے پپوٹوں کی جڑیں بہت زیادہ کالی ہوئیں اور اس کے بال گھنگھریالے یعنی مڑے اور سکڑے ہوئے ہوں تو وہ اس شخص کا بچہ ہو گا جس نے اس عورت کے ساتھ زنا کیا ہےجو کہ شریک بن سمحاء تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حاملہ عورت سے لعان کرنا جائز ہے۔