عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کے مابین اس بات پر گفتگو چلی کہ آیا محرم شخص غسل کرتے ہوئے اپنا سر دھو سکتا ہے یا نہیں؟ اس مسئلہ میں جس بات میں اشکال تھا وہ یہ تھی کہ اگر اس نے اپنے سر کے بالوں کو حرکت دی تو ممکن ہے اس سے سر کے کچھ بال ٹوٹ جائیں۔ چنانچہ عبد اللہ بن حنین ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ وہ اس وقت غسل کر رہے تھے۔ انہوں نے آپ رضی اللہ عنہ کو بتایا کہ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کی طرف بھیجا ہے اور وہ پوچھ رہے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کیسے غسل فرمایا کرتے تھے۔؟ اس پر ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ نے اس کپڑے کو کچھ نیچے کیا جو آپ کو اوٹ فراہم کر رہا تھا یہاں تک کہ آپ کا سر ظاہر ہو گیا اور آپ نے اس شخص سے فرمایا جو آپ پر پانی ڈال رہا تھا کہ پانی ڈالو۔ پھر آپ نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اپنا سر ہلایا اور انہیں آگے اور پیچھے کی طرف لے گئے۔ اور پھر فرمایا: میں نے رسول اللہ ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ جب وہ فرستادہ شخص واپس آیا اور اس نے آکر دونوں کو بتایا کہ عبد اللہ بن عباس کی رائے درست تھی، -صحابہ حق ہی کے جویا رہتےتھے- تو اس پر مسور رضی اللہ عنہ رجوع کرتے ہوئے اور اپنے ساتھی کی فضیلت کا اعتراف کرتے ہوئے فرمایا کہ میں اب تم سے کبھی اختلاف نہیں کروں گا۔