نبی ﷺ اور کفار قریش کے مابین ایک معاہدہ تھا۔ آپ ﷺ نے کچھ مشرکین کے خون کو رائیگاں قرار دیا ہوا تھا اور ان کے قتل کرنے کا حکم صادر فرما رکھا تھا۔ یہ صرف نو افراد تھے۔ جب مکہ فتح ہوا اور آپ ﷺ اس میں داخل ہوئے تو آپ ﷺ بہت محتاط اور چوکنے انداز میں داخل ہوئے۔ آپ ﷺ نے اپنے سر پر خود (جنگی ٹوپی) پہن رکھی تھی۔ بعض صحابہ نے دیکھا کہ ابن اخطل کعبہ کے پردوں کے ساتھ لٹکا ہوا ہے اور ان کی حرمت کے توسط سے قتل ہونے سے بچنا چاہ رہا ہے کیونکہ وہ اپنے برے طرز عمل اور جو برا سلوک وہ پہلے کرتا رہا اس سے خوب واقف تھا۔ صحابہ کرام نے نبی ﷺ سے پوچھ لینے سے پہلے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔ جب انہوں نے نبی ﷺ سے اس بارے میں رجوع کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا: اسے قتل کردو۔ چنانچہ اسے حجرِ اسود اور مقام ابراہیم کے مابین قتل کر دیا گیا۔