یزید بن اسود بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ نماز پڑھی۔ اس وقت وہ نوجوان تھے۔ جب نبی کریمﷺ نے نماز سے فارغ ہوئے، تو دیکھا دو آدمی مسجد کے کونے میں موجود تھے۔ انھوں نے نمازنہیں پڑھی تھی۔نبی کریمﷺ نے صحابہ کو انھیں حاضر کرنے کا حکم دیا۔ صحابہ ان کو لے آئے تو خوف سے وہ تھر تھر کانپ رہے تھے۔ نبی کریم ﷺ نے ان سے پوچھا کہ تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز کیوں نہیں پڑھی؟ انھوں نے بتایا کہ ہم نے اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لی تھی۔ آپﷺ نے فرمایا: دوبارہ ایسا نہ کرنا؛ جب تم میں سے کوئی اپنی جائے قیام میں نماز پڑھ لے اور پھر اما م کو نماز پڑھانے ہوئے پائے، تو اس کے ساتھ نماز پڑھ لے۔ یہ اس کے لیے مزید اجر و ثواب کی باعث ہوگی۔ اس کی پہلی نماز فرض ہو جائے گی اور دوسری نفل۔