حدیث میں اس بات کا بیان ہے کہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے وضو شروع کیا تو اسی دوران ایک بلی آ گئی۔ - اور بلی گھروں میں گھس آتی ہے، لوگوں میں گھل مل جاتی ہے اور ان کے پاس آتی جاتی رہتی ہے - چنانچہ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بلی کے سامنے برتن کو جھکا دیا تا کہ وہ وضو کا پانی پی سکے۔ ایسا کرنے پر ان کی بھتیجی کبشہ بہت حیران ہوئیں۔ کیونکہ یہ وضو کا پانی تھا جس کے لیے پاکیزہ اور پاک کرنے والا ہونا ضروری ہے۔ اس پر ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے انہیں حدیث سنائی کہ بلی ناپاک نہیں ہے اور نہ ہی اس کی وجہ سے پانی پر کوئی اثر پڑتا ہے کیونکہ یہ تو ان جانوروں میں سے ہیں جو ہر وقت انسانوں کے ساتھ رہتے ہیں۔