عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بتا رہے ہیں کہ انہوں نے ایک رات رسول اللہ ﷺکے ساتھ نماز تہجد ادا کی۔آپ ﷺ نماز میں کھڑے ہوئے اور سورۂ بقرہ کی تلاوت فرمائی۔ آپ ﷺ جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں رحمت اور جنت کا ذکر ہوتا تو اللہ سے اس کی رحمت اور جنت کا سوال کرتے اور جب کسی ایسی آیت سے گزرتے جس میں عذاب کا ذکر ہوتا ہے تو اللہ کے عذاب سے اس کی پناہ طلب کرتے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر لمبا رکوع کیا اور اپنے رکوع میں آپ ﷺ یہ کہہ رہے تھے: " سُبحانَ ذي الجَبَروتِ والملَكوتِ والكِبرياءِ والعَظَمةِ "۔ یعنی میں پاکیزگی بیان کرتا ہوں اس ذات کی جو زبردست اور غالب ہے، جو ظاہری وباطنی بادشاہت کا مالک ہے اور بڑائی وعظمت والا ہے۔ پھر آپ ﷺ نے اپنے قیام ہی کے بقدر سجدہ فرمایا اور اپنے سجدے میں وہی دعا پڑھی جو آپ ﷺ نے اپنے رکوع میں پرھی تھی۔ پھر آپ ﷺ نے کھڑے ہو کر سورۂ آل عمران کی تلاوت فرمائی اور پھرایک ایک سورت کی تلاوت فرمائی۔