نبی ﷺ کی نماز اور خطبہ بہت زیادہ لمبا ہونے اور انتہائی مختصر ہونے کے بیچ بیچ ہوتا تھا۔ یعنی اس میں توسط اور اعتدال پایا جاتا تھا۔ مسلمانوں کے لیے عمومی طور پر اور ائمہ و خطیب حضرات کے لیے خاص طور پر یہی اسوہ اور قابل اقتدا نمونہ ہے۔ اس حدیث کو دلیل بنا کر نماز میں کوے کی طرح ٹھونگیں مارنا اور خطبے دینے میں بہت زیادہ تیزی اپنانا صحیح نہیں ہے اس لیے کہ نبیﷺ کی سنت تو اعتدال اور کبھی کبھار تھوڑی طوالت پر دلالت کرتی ہے جس سے پریشانی نہ ہو۔