اس حدیث میں لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنے اور ان سے میل جول بڑھانے کی فضیلت کی دلیل ہے۔ بلاشبہ وہ مومن جو لوگوں کےمسائل کے تئیں انہماک کے ساتھ سرگرم عمل رہتا ہے، ان کے ساتھ میل جول اختیار رکھتا ہے اور اور انھیں نصیحت کرنے اور درست راہ دکھانے میں لاحق مصائب پر صبر و تحمل کا مظاہر کرتا ہے، اس مؤمن سے بہتر ہے جو لوگوں کے ساتھ میل ملاپ نہیں رکھتا، بلکہ ان کے اٹھنے بیٹھنے سے الگ رہتا ہے اور ان سے گوشۂ تنہائی کو ترجیح دیتا ہے یا انفرادی حیثیت سے اپنی زندگی کے شب و روز گزارتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ لوگوں کی جانب سے پہنچنے والی تکالیف پر صبر نہیں کرتا۔