صحابہ کرام ایک سفر میں نبی ﷺ کے ہمراہ تھے۔ ممکن ہے کہ یہ غزوہ فتح مکہ کا ہو، ان میں سے بعض نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا اور بعض روزہ دار تھے۔ نبی ﷺ نے ہر ایک کو اس کی حالت پر رہنے دیا۔ سخت گرمی کے دن میں انہوں نے ایک جگہ سفر کی مشقت اور دوپہر کی گرمی سے کچھ راحت پانے کے لئے پڑاؤ کیا۔ جب انہوں نے اس گرمی میں پڑاؤ کیا تو روزہ دار لوگ گرمی اور پیاس کی شدت سے نڈھال ہو کر گر پڑے اور کوئی کام نہ کر سکے،جب کہ جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا ہوا تھا انہوں نے اٹھ کر خیمے نصب کر کے پڑاؤ کی جگہیں بنائیں،اونٹوں کو پانی پلایا اور اپنے روزہ دار بھائیوں کی خدمت کی۔ نبی ﷺ نے جب ان کے اس عمل کو اور جس طرح سے انہوں ںے اہل لشکر کی خدمت کی تھی اسے دیکھا تو آپ ﷺ نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور ان کی فضیلت اور اجر میں زیادتی کو بیان کیا اور فرمایا: ”آج تو جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھا تھا وہ اجر و ثواب لے گئے“۔