نبی ﷺکے صحابہ میں سے ایک صحابی کا پہاڑ میں واقع ایک گھاٹی پر سے گزر ہوا۔ اس گھاٹی میں میٹھے پانی کا ایک چشمہ تھا۔ انہیں یہ چشمہ بہت پسند آیا اور انہوں نے چاہا کہ لوگوں سے الگ تھلک ہو کر وہ اس جگہ پر بسیرا کر لے ، اللہ کی عبادت میں مصروف رہے اور اس چشمے کا پانی پیتا رہے ۔ تاہم انہوں نے کہا کہ میں تب تک ایسا نہیں کروں گا جب تک کہ رسول اللہ ﷺ سے اجازت نہ لے لوں۔ چنانچہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے جب اپنے اس ارادے کا تذکرہ کیاتو آپ ﷺ نے فرمایا: "ایسا نہ کرو"۔ نبی ﷺ نے انہیں ایسا کرنے سے منع فرما دیا کیونکہ ان پر جہاد کرنا واجب ہو چکا تھا اور نفلی عبادت کے لئے ان کا گوشہ نشین ہو جانا ترک واجب کو لازم آتا تھا۔ پھر آپ ﷺ نے ان سے فرمایا: ”تم میں سے کسی شخص کا اللہ کی راہ میں جہاد کے لئے کھڑا ہونا اس کا اپنے گھر میں ستر سال تک نماز پڑھنے سے افضل ہے“۔ یعنی اللہ کی راہ میں جہاد کرنا الگ تھلگ ہو کر ستر سال تک نماز پڑھتے رہنے سے بہتر ہے۔ کیونکہ جہاد کا نفع متعدی ہے بخلاف نماز کے کہ اس کا نفع صرف عبادت کرنے والے کو ہوتا ہے۔ ”کیا تم یہ نہیں چاہتے کہ اللہ تمہاری مغفرت کر کے تمہیں جنت میں داخل کر دے؟“ یعنی اگر تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ تمہارے گناہوں کو بخش کر تمہیں جنت میں داخل کر دے تو اللہ کی راہ میں جہاد میں لگ جاو اور اس سلسلے میں صبر کا دامن تھامے رکھو اور اس سے اجر کی امید رکھو۔ پھر آپ ﷺ نے یہ فرماتے ہوئے اس کی فضیلت بیان کی کہ ”جس نے ایک لمحہ بھی اللہ کی راہ میں جہاد کیا اس کے لئے جنت واجب ہو گئی“ یعنی جس نے اللہ کی راہ میں اس کے دین کی سر بلندی کے لئے قتال کیا اس کے لئے جنت واجب ہو جاتی ہے اگرچہ اس کی جہاد میں یہ شرکت بہت تھوڑی مدت کے لئے ہی کیوں نہ ہو۔