انس ابن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول الله ﷺ نے پھلوں کو ” زہو “ سے پہلے بیچنے سے منع فرمایا ہے۔ دریافت کیا گیا کہ زہو کسے کہتے ہیں؟ فرمایا: پھلوں کا (پک کر) سرخ ہوجانا۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ تم بتاؤ اگر اللہ (کسی وجہ سے) پھل نہ لگائے تو تمہارے لیے اپنے بھائی کا مال (بلا عوض لینا) کیسے حلال ہوجائے گا؟ صحیح - متفق علیہ
explain-icon

شرح

پکنا شروع ہونے سے پہلے پھلوں پر بہت سی بیماریوں کے آنے کا اندیشہ ہوا کرتا تھا اور اس وقت ان کے بیچنے میں خریدار کا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ چنانچہ نبی ﷺ نے فروخت کنندہ اور خریدار کو پھلوں کے 'زہو' سے پہلے ان کی بیع سے منع فرمایا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ پھلوں کی پختگی ظاہر ہوجائے۔ کھجور کے معاملے میں اس کی نشانی اس کا سرخ یا زرد ہوجانا ہے۔ نبی ﷺ نے اس قسم کی خرید و فروخت کی ممانعت کی علت بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ان پھلوں پر کوئی آفت آ جائے یا ان کا کچھ حصہ بیماری کی زد میں آ جائے تو پھر تم یعنی فروخت کنندہ کے لیے یہ کیسے روا ہو گا کہ وہ اپنے خریدار بھائی کا مال لے لے؟۔ تم کسی ایسے بدل کے بغیر کیسے اس کا مال لے سکتے ہو جس سے اس کو کوئی فائدہ ہوا ہی نہیں؟۔