جلیل القدر صحابی ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں خبر دی کہ انھوں نے نبی ﷺ کو ذکر کرتے ہوئے سنا کہ نفخۂ صعق (پہلا صور) اور نفخۂ بعث (آخری صور) کے مابین کی مدت چالیس ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ سے اس عدد کے متعلق پوچھا گیا کہ اس سے دن، مہینہ یا سال مقصود ہے؟ وہ جواب دینے سے رک گئے۔ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ انھوں نے نبی ﷺ سے اس کے متعلق کچھ نہیں سنا۔ پھر ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ آدمی کے منی کی طرح گاڑھا پانی پرسائے گا، جس سے لوگ اپنی قبروں سے جی اٹھیں گے، جس طرح کہ خش و خاشاک اُگ آتے ہیں۔ پھر وہ نکل کر رب العالمین کے سامنے حساب کے لیے کھڑے ہوں گے۔