عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنھما کہتے ہیں کہ نبی ﷺ کی حیاتِ مبارکہ میں ہم کہا کرتے تھے کہ حجۃ الوداع کیا ہے؟ اور ہمیں پتہ نہیں تھا کہ حجۃ الوداع کیا ہے۔ حجۃُ الوداع، اس حج کو کہا جاتا ہے جو نبی ﷺ نے ہجرت کے دسویں برس کیا۔ جس میں آپ ﷺ نے لوگوں کو اپنا وداعی پیغام دیا اور اس میں مسیح دجال کا ذکر کرتے ہوئے اس کے معاملہ کو بہت زیادہ تشویشناک قرار دیا اور اس سے بچاؤ اختیار کرنے کی پورے شد و مد کے ساتھ تلقین فرمائی، پھر آپ ﷺ نے یہ خبر دی کہ سارے ہی انبیاء کرام، اپنی اقوام کو دجال سے ڈرایا کرتے تھےاور انھیں اس کا خوف دلایا کرتے اور اسے بہت خطرناک بتاتے تھے اور یہ کہ یقینا اس کا معاملہ تم سے مخفی نہ رہے گا کیوں کہ تمہارا پروردگار کانا نہیں ہے اور اس کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپنی دائیں آنکھ سے کانا ہے جو ایسے معلوم ہوتی ہے کہ نمایاں طور پر ابھرا ہوا انگور کا دانہ ہو۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر آپس میں ایک دوسرے کا خون بہانے اور ناحق اموال ہڑپنے کو، اسی طرح حرام کردیا ہےجس طرح قربانی کے اس دن کی حرمت ہے، شہرِ مکہ کی حرمت ہے اور ماہ ذی الحجہ کی حرمت ہے۔ پھر آپ ﷺ نے لوگوں سے پوچھا:کیا میں نے تمہیں(دین اسلام کی) وہ تمام باتیں پہنچادیں جسے تم تک پہنچانے کی ذمہ داری مجھے سونپی گئی تھی؟ تمام صحابہ کرام نے فرمایا: ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:اے اللہ! تبلیغِ رسالت کے تئیں، امت کی اس گواہی پر تو گواہ رہنا۔ آپ ﷺ نے اس جملہ کو تین بار دہرایا۔ پھر آپ ﷺ نے صحابہ کرام کو حکم دیا کہ وہ آپ کی وفات کے بعد کافروں کی طرح نہ ہوجائیں کہ ایک دوسرے کی گردن زدنی کرنے لگیں۔