نبی ﷺ نے اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کو ایک سریہ میں جہینہ قبیلے کی شاخ حرقہ کی طرف بھیجا۔ جب وہ ان لوگوں پر جا کر حملہ آور ہو گئے تو مشرکین میں سے ایک شخص بھاگ اٹھا۔ اسامہ رضی اللہ عنہ اور ایک انصاری آدمی اسے قتل کرنے کے ارادے سے اس کے پیچھے لگ گئے۔ جب انہوں نے اسے جا لیا تو اس نے کہا: لا الہ الا اللہ۔ انصاری آدمی نے تو اسے چھوڑ دیا کیونکہ اس نے لا الہ الا اللہ کہہ دیا تھا لیکن اسامہ رضی اللہ عنہ نے اسے قتل کر دیا۔ جب وہ مدینے واپس لوٹے اور نبی ﷺ تک یہ خبر پہنچی تو آپ ﷺ نے اسامہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: کیا ’لا الہ الا اللہ‘ کہنے کے بعد بھی تم نے اسے قتل کر دیا؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہاں یا رسول اللہ! وہ تو یہ کلمہ صرف قتل ہونے سے بچنے کے لیے پڑھ رہا تھا اور اس کی آڑ لے رہا تھا۔ نبی ﷺ نے ان سے کہا کہ تم نے اس کا دل چیر کر کیوں نہ دیکھ لیا تاکہ تمہیں یقینی طور پر اس کا علم ہو جاتا۔ قیامت کے دن جب کلمہ ’’لا الہ الا اللہ‘‘ آئے گا تو پھر تم کیا کرو گے۔ تمہاری کون سفارش کرے گا۔اس وقت تمہاری طرف سے کون جھگڑا کرے گا جب کلمہ توحید کو لایا جائے گا اور تمہیں کہا جائے گا کہ تم نے اس کلمہ کو پڑھنے والے کو کیسے قتل کر دیا؟۔ اسامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے آرزو کی کہ کاش میں نے آج سے پہلے اسلام ہی قبول نہ کیا ہوتا۔ کیوں کہ اگر وہ کافر ہوتے اور پھر مسلمان ہو جاتے تو اللہ تعالیٰ انہیں معاف فرما دیتا۔ لیکن اب تو مسلمان ہونے کی حالت میں ان سے یہ فعل سر زد ہو گیا۔