اس حديث ميں جابر رضي اللہ عنہ بيان فرما رہے ہيں کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جہاد کیا، اور يہ جنگ سيرت لکھنے والوں کے يہاں ذات الرقاع کے نام سے معروف ومشہور ہے۔ جنگ سے لوٹتے وقت، آپ ﷺ دوپہر ميں ایسی جگہ اترے، جہاں گھنے کانٹے دار درخت تھے، اور لوگ بھی نبی ﷺ سے الگ ہوکر ایسی جگہ تلاشنے لگے جہاں سورج کی تپش سے بچ کر سایہ حاصل کر سکیں، اور رسول اللہ ﷺ ایک سایہ دار درخت کے نیچے فرو کش ہوئے جسے سمرۃ یعنی کیکر کہا جاتا ہے، اور آپ ﷺ نے اپنی تلوار اسی درخت سے لٹکا دی اور سو گئے، صحابۂ کرام بھي سو گئے پھر جن لوگوں سے اس غزوہ میں جنگ ہوئی تھی انہیں ميں سے ايک ديہاتی چپکے سے آپ کے پاس آيا اور لوگوں کو اس کی بھنک بھی نہ پڑی، اس نے آپ کی تلوار نہایت خاموشی سے اٹھا لی، آپ ﷺ جاگ گئے، تلوار اس کے ھاتھ میں تھی اور وہ آپ ﷺ کو ڈراتے ہوے کہہ رہا تھا: ’’اگر ميں تم کو قتل کرنا چاہوں تو تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟‘‘ آپ ﷺ نے فرمايا: ’’اللہ‘‘، اور يہ جملہ تین مرتبہ فرمايا، اس کا مطلب يہ ہے کہ بے شک اللہ تعالیٰ مجھے تجھ سے بچالے گا۔ آپ ﷺ نے يہ جملہ پورے اعتماد و توکل اور بھروسہ کے ساتھ کہا آپ کو اللہ کے وعدہ پر یقین تھا، کافر کے ہاتھ سے تلوار چھوٹ کر گر گئی، آپ ﷺ نے تلوار اٹھالی اور فرمايا: ’’اب تجھے‘ مجھ سے کون بچاے گا؟‘‘ یعنی اگر میں تجھے قتل کرنا چاہوں۔ کافر کہنے لگا: (آپ اچھی طرح پکڑنے والے ہوئیے)، اس سے مراد عفو و در گذراور برائی کا بدلہ بھلائی سے دينے کے ہیں۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمايا: کيا تو اس بات کی گواہی ديتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہيں اور ميں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے جواب ديا: نہيں، ليکن اس نے آپ سے نہ لڑنے اور اسی طرح آپ سے جنگ کرنے والوں کا ساتھ نہ دینے کا وعدہ کيا، آپ ﷺ نے اسے اس کی راہ پر چھوڑ ديا، اور وہ اپنے ساتھیوں کے پاس واپس جاکر ان سے کہا: ميں آج (دنيا کے) سب سے افضل وبہتر شخص کے پاس سے آيا ہوں۔ اور حقيقت بھی يہی ہے کيوں کہ نبی ﷺ اخلاق و کردار میں سب سے بہتر تھے، اور اللہ نے بھی اپنے اس فرمان کے ذریعہ اس بات کی گواہی دی ہے: ’’اے نبی تم سب سے بڑے اور عمدہ اخلاق پر ہو۔‘‘