جابر رضی اللہ عنہ غزوہ خندق کے تفصیلی واقعہ کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین غزوۂ خندق کے موقع پر مدینے کے اطراف میں خندق کی کھدائی میں مصروف تھے، جو ان کے اور دشمنان اسلام کے درمیان رکاوٹ بن سکے۔ کھدائی کے دوران زمین کے ایک حصے میں سخت قسم کی چٹان کا ایک بڑا سا ٹکڑا نمودار ہوا، جس پر کلہاڑی اپنا کوئی اثر نہیں دکھا پا رہی تھی۔ صحابۂ کرام نے رسول اللہ ﷺ سے اس مشکل کا شکوہ کیا، تو آپﷺ خود خندق میں اترے، جب کہ بھوک کی شدت سے آپ نے اپنے پیٹ کو پتھر سے باندھ رکھا تھا، آپ نے کدال لی، جو کہ لوہے کا ایک اوزار ہے، جس سے پہاڑ کھودا جاتا ہے، اور اس سے چٹان پر ایسی ضرب لگائی کہ وہ نرم و نازک ریت میں تبدیل ہوگئی۔ جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنے گھر گیا اور بیوی سے دریافت کیا کہ آیا گھر میں کھانے کی کوئی چیز موجود ہے یا نہیں؟ بیوی کے سامنے رسول اللہ ﷺ کی شدید بھوک کا حال بھی بیان کیا۔ چنانچہ ان کی بیوی نے ایک چمڑے کا برتن نکالا، جس میں کچھ جَوتھی اور ان کے ہاں بکری کا ایک مادہ بچہ تھا، (بکری کے پہلے مادہ بچے کو عناق کہتے ہیں) جو گھر سے مانوس ہوچکا تھا، انھوں نے اسے ذبح کیا۔ اس دوران بیوی نے جو پیس لی اور پتھر کی ہانڈی میں گوشت ڈال دیا۔ ادھر جابر رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آئے اور چپکے سے بتایا کہ انھوں نے آپﷺ کے لیے تھوڑا سا کھانا تیار کیا ہے،جو آپ کے تمام ساتھیوں کے لیے کافی نہیں ہے۔ انھوں نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ﷺ اپنے چند اصحاب کے ہم راہ ان کے گھر کھانے پر تشریف لائیں۔ لیکن آپ ﷺ نے اپنے تمام اصحاب کو دعوت عام دیتے ہوئے ندا لگائی کہ اے خندق کھودنے والے ساتھیو!جابر نے کچھ کھانا تیار کیا ہے، جلدی سے ان کے گھر چلو!! پھر آپ ﷺ جابر رضی اللہ عنہ کے گھر تشریف لائے اور گوندھا ہوا آٹا منگا کر اس میں اپنا لعاب دہن شامل فرمایا۔ اسی طرح ہانڈی میں بھی لعاب دہن کی آمیزش کی اور ان میں خیر و برکت کی دعا فرمائی۔ خیال رہے کہ یہ امر آپ ﷺ کی خصوصیات اور برکات سے تعلق رکھتا ہے۔ آپ نے کھانا تیار کرنے میں جابر رضی اللہ عنہ کی بیوی کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے بعض عورتوں کو طلب فرمایا۔ بالآخر سارے لوگ اس دعوت طعام میں شریک ہوئے اور سب کے سب شکم سیر ہوکر واپس لوٹ گئے اور کھانا اپنی اصل مقدار ہی میں باقی رہ گیا۔ ہانڈی میں اسی طرح ابال تھا اور گوندھے ہوئے آٹے سے اس طرح روٹیاں پک رہی تھیں۔ گویا کسی طرح کی کمی واقع ہوئی ہی نہ ہو۔