یہ ایک بہت جلیل القدر حدیث ہے جس میں بہت سے اہم امور اور سچی خبریں ہیں۔ نبی صادق و مصدوق ﷺ اس حدیث میں خبر دے رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کے لیے ساری زمین کو سمیٹ دیا یہاں تک کہ آپ ﷺ نے مشرق بعید سے لے کر مغرب بعید تک وہ سارا علاقہ دیکھ لیا جو آپ ﷺ کی امت کی ملکیت میں آئے گا۔ یہ ایک ایسی خبر ہے جس کا مصداق وجود میں آ چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کا دائرہ اقتدار اتنا وسیع ہوا کہ وہ مغرب بعید سے لے کر مشرق بعید تک پھیل گیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ آپ ﷺ کو دو خزانے دیے گئے۔ آپ ﷺ نے جیسے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ کی امت کو کسری و قیصر کی سلطنت پر غلبہ حاصل ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ سونا و چاندی اور جواہرات بھی ان کے ہاتھ آئے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ نے اپنے رب سے اپنی امت کے حق میں دعا کی کہ وہ انہیں کسی عمومی قحط سے ہلاک نہ کرے اور یہ کہ کفار میں سے ان پر کوئی ایسا دشمن نہ مسلط کر دے جو ان کے علاقوں پر قبضہ کر کے انہیں بیخ و بن سے اکھاڑ دے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ نے ان کی پہلی دعا قبول کر لی اور دوسری بھی جب تک کہ امت اختلافات و تفرقہ اور باہمی لڑائے جھگڑے سے پرہیز کرتی رہے گی۔ جب یہ سب کچھ ہونے لگ جائے گا تو پھر اللہ ان پر کفار میں سے دشمن کو مسلط کر دے۔ جب امت تفرقے کا شکار ہو گئی تو یہ سب کچھ بھی واقع ہو گیا۔ آپ ﷺ نے امت کے سلسلے میں حکام اور خود گمراہ اور گمراہ کن علما کے خوف کا اظہار کیا۔ کیونکہ لوگ بھی ان کے گمراہی میں ان کی اقتدا کریں گے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ جب امت میں فتنہ اور قتل و غارت گری کا آغاز ہو جائے گا تو پھر یہ قیامت تک جاری رہے گا۔ یہ سب کچھ ویسے ہی ہو چکا ہے جیسے آپ ﷺ نے خبر دی۔ جب سے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل سے فتنہ پیدا ہوا ہے تب سے لے کر آج تک ویسے ہی جاری ہے۔ آپ ﷺ نے بتایا کہ آپ ﷺ کی امت کے بعض لوگ مشرکین کے علاقوں میں چل جائیں گے اور ان کا دین اختیار کر لیں گے اورامت کے کچھ گروہ شرک کی طرف راغب ہو جائیں گی۔ یہ سب کچھ جیسے آپ ﷺ نے بتایا ویسے ہو چکا ہے۔ چنانچہ قبروں، درختوں اور پتھروں ساری چیزوں کی پوجا کی گئی۔ آپ ﷺ نے نبوت کے دعوے دار ظاہر ہونے کے خبر دی اور فرمایا کہ جو بھی نبوت کا دعوی کرے گا وہ جھوٹا ہوگا کیونکہ آپ ﷺ کی بعثت کے ساتھ ہی نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا ہے۔ آپ ﷺ نے خوشخبری دی کہ آپ ﷺ کی امت میں سے ایک گروہ اسلام پر قائم رہے گا حالانکہ بہت المناک واقعات اور مصائب کا ظہور ہو گا اور یہ کہ یہ گروہ باوجود اپنی قلت کے اپنے دشمنوں اور مخالفین سے بالکل بھی زک نہیں اٹھائے گا۔