عمرو بن سعید بن العاص جو کہ اشدق کے نام سے مشہور تھا، اس وقت یزید بن معاویہ کی طرف سے مدینہ منورہ کا امیر (گورنر) مقرر تھا۔ اس نے جب عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما سے لڑائی کے لیے مکہ مکرمہ پر لشکر کشی کا ارادہ کیا، تو ابو شُریح خویلد بن عمرو الخزاعی اسے اس بابت نصیحت کرنے آئے۔ چونکہ جسے نصیحت کی جارہی تھی وہ ان کے دل میں گراں قدر تھا، اس لئے ابو شریح نے حکمت اور دانائی کے پیشِ نظر اس کے ساتھ بات کرنے میں نرمی برتی۔ تاکہ نصیحت قبول کر لی جائے اور اس کا ردِّ عمل بُرا نہ ہو۔ اس لیے ابو شُریح نے اس سے اس لشکر کشی کے بارے میں نصیحت کرنے کی اجازت چاہی جس کے لیے وہ کوشاں تھا، اور اسے بتلایا کہ وہ اس کے سامنے جو حدیث پیش کرنے جا رہے ہیں وہ بالکل صحیح ہے اور انہیں اس کی سچائی پر پورا بھروسہ ہے، اس لیے کہ اسے ان کے کانوں نے سنا ہے، ان کے دل نے یاد رکھا ہے اور ان کی آنکھوں نے دیکھا ہے جس وقت اللہ کے رسول ﷺ یہ حدیث ارشاد فرمائی تھی۔ تو عمرو بن سعید نے انہیں بات کرنے کی اجازت دے دی۔ ابو شُریح نے کہا کہ فتح مکہ کی صبح آپ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کی اور فرمایا: مکہ کو اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان کی تخلیق کے دن ہی حرام (حرمت والا) بنایا ہے۔ اس لئے اس کی تعظیم و تقدیس بہت قدیم ہے، اسے لوگوں نے حرام نہیں کیاہے جیسے وہ عارضی محفوظ علاقے، چراگاہ اور پنگھٹ کو حرام (ممنوع) قرار دیتے ہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اس کی تحریم کا ذمہ لیا ہے، تاکہ اس کی عظمت زیادہ ہو۔ لہٰذا جب اس کی حرمت قدیم اور اللہ کی طرف سے ہے، تو پھر اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھنے والے کے لیے، اگر اسے اپنے ایمان کی حفاظت کا خیال ہے، جائز نہیں کہ وہ اس میں خون بہائے یا اس میں کوئی درخت کاٹے۔ اگر کوئی شخص فتح مکہ کے دن میرے قتال کی وجہ سے رخصت اختیار کرے تو اس سے کہو: تم اللہ کے رسول ﷺ کی طرح نہیں ہو۔ کیونکہ آپ ﷺ کو اس کی اجازت دی گئی تھی اور تمہیں اس کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ (آپ ﷺ ) کے لیے بھی اس میں قتال کرنا ہمیشہ کے لئے حلال نہیں کیا گیا، بلکہ بقدر ضرورت صرف دن کی ایک گھڑی میں آپ کو اجازت دی گئی تھی، پھر آج اس کی حرمت پہلے ہی کی طرح پلٹ آئی۔ لہٰذا حاضر کو چاہیئے کہ وہ غائب کو یہ بات پہنچا دے۔ لہٰذا اے امیر! میں نے تمہیں یہ پیغام پہنچادیا، کیونکہ فتح مکہ کی صبح اس حدیث کے بیان کے وقت میں حاضر تھا، اور آپ وہاں موجود نہیں تھے۔ لوگوں نے ابوشُریح سے کہا کہ عمرو نے تمہیں کیا جواب دیا؟ انہوں نے فرمایا: اس نے مجھے اس طرح جواب دیا: اے ابو شُریح! میں اسے تم سے زیادہ جانتا ہوں، حرم کسی نافرمان یا کوئی جرم کر کے بھاگے ہوئے کو پناہ نہیں دیتا ہے۔ اس نے حدیث کے مقابلے میں اپنی رائے پیش کی اور عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کے ساتھ قتال کے لئے لشکر کشی سے باز نہ آٰیا، بلکہ اسے جاری رکھا۔