طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ اس بات کی خبر دے رہے ہیں کہ نبی ﷺ جب کبھی پہلی یا دوسری یا تیسری رات کا چاند دیکھتے، تو اس اہم دعا کو پڑھتے، جس میں اللہ سے یہ مانگا گیا ہے کہ وہ اس چاند کو اس طرح طلوع فرمائے کہ دینی اور دنیوی تشویش ناک امور سے امن و امان نصیب ہو، ایمان قائم و دائم رہے اور ان تمام امور کا خاتمہ ہوجائے جو ایمان میں کج روی کا باعث بنیں، نیز اس میں یہ بھی مانگا گیا ہے کہ سلامتی اور اسلام کی دولت سے نوازدے۔ امن و سلامتی کے ذکر سے ہر قسم کے ضرر کو دور کرنے کی دعا اور ایمان و اسلام کے ذکر سے ہر نفع بخش چیز کے حصول کی جانب توجہ مبذول کرائی جارہی ہے۔ پھر دعا کے آخر میں چاند سے خطاب کرتے ہوئے کہا جارہا ہے کہ ”میرا اور تیرا پروردگار ایک اللہ ہی ہے“، جس میں اس بات کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ، اپنی مخلوق کی تدبیر میں غیر اللہ کی شراکت و ساجھے داری کے تمام عیوب و نقائص سے منزہ و پاک ہے۔ اللہ تعالیٰ سے یہ بھی دعا مانگی جارہی ہے کہ یہ چاند ہدایت اور بھلائی کا باعث بنے۔