ثابت رحمہ اللہ، خادمِ رسول انس رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ کا ان کے پاس سے گزر ہوا جب کہ وہ لڑکوں کے ساتھ کھیل رہے تھے کیونکہ انس رضی اللہ عنہ چھوٹے بچے تھے۔ آپ ﷺ نے کھیلنے والے ان بچوں کو سلام کیا اور پھر انس ابن مالک رضی اللہ عنہ کو بلا کر انھیں کسی ضروری کام کےلیے بھیج دیا۔ انھیں اپنی والدہ کے پاس آنے میں کچھ دیر ہو گئی۔ جب وہ اپنی والدہ کے پاس آئے تو انھوں نے پوچھا: تمہیں کس وجہ سے دیر ہو گئی؟ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے نبی ﷺ نے کسی ضروری کام پر بھیج دیا تھا۔ وہ پوچھنے لگیں کہ آپ ﷺ کا وہ ضروری کام کیا تھا ؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میں رسول اللہ ﷺ کا راز کسی کو نہیں بتا سکتا۔یعنی میں کسی کو بھی اس راز کے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ اس پر ان کی والدہ نے ان کی تایید، انھیں ان کی بات پر ثابت قدم رہنے اور ان کے عذر کو قبول کرتے ہوئےکہا کہ: رسول اللہ ﷺکا راز ہرگز بھی کسی کو نہ بتانا۔ کیوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے اپنی والدہ کو رسول اللہ ﷺ کا راز بتانے سے انکار کر دیا تھا۔ پھر انس رضی اللہ عنہ نے اپنے شاگرد ثابت البنانی رحمہ اللہ سے فرمایا جو ہمیشہ ان کے ساتھ رہتے تھے کہ نبی ﷺ نے مجھے جس ضروری کام سے بھیجا تھا اس کے بارے میں اگر میں کسی کو بتاتا تو وہ تم ہوتے۔