اس حدیث میں اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا ہے کہ کچھ لوگوں کی سوچ کی معراج، منتہائے علم اور پہلا اور آخری مقصد دنیا ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ کہ اس طرح کے لوگوں کا انجام ہلاکت اور بربادی ہے۔ اس قسم کی لوگوں کی علامت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کے شدید حریص ہوتے ہیں۔ اگر دنیا مل گئی تو خوش اور نہیں ملی تو ناراض۔ جب کہ کچھ لوگوں کا مقصد اللہ کی رضامندی کا حصول اور آخرت کی زندگی کو سنوارنا ہوتا ہے۔ انھیں نہ جاہ و منصب کی طلب ہوتی ہے، نہ شہرت کی تمنا۔ ان کے ہر نیک کام کے پیچھے اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کا جذبہ کار فرما ہوتا ہے۔ اس قسم کے لوگوں کی علامت یہ ہے کہ وہ دکھاوے سے مطلب نہیں رکھتے۔ جہاں رکھ دیے جائیں اسی پر راضی اور خوش۔ ایسے لوگ، لوگوں کے سامنے بے وقعت ہوتے ہیں اور عہدہ و منصب والے لوگوں سے دور رہتے ہیں۔ اگر ان کے پاس داخل ہونے کی اجازت مانگیں، تو اجازت نہ ملے اور ان کے پاس کسی کی سفارش کریں، تو سفارش قبول نہ کی جائے۔ لیکن ان کا ٹھکانہ جنت ہے جو ایک بہترین بدلہ ہے۔