عبد بن یزید نےجو رکانہ اور اس کے بھائیوں کا باپ تھا اپنی بیوی اُم رکانہ کو طلاق دے دی اور مزینہ کے قبیلے میں سے ایک عورت سے نکاح کیا وہ عورت رسول اللہ ﷺکے پاس آئی اور بولی یا رسول اللہﷺ! ابو رکانہ نامرد ہے اس کے پاس عورتوں سے ہمبستری کرنے کی طاقت نہیں۔ لہذا آپ میرے اور اس کے درمیان علیحدگی کرا دیں چنانچہ یہ سن کر رسول اللہﷺ بہت غصہ ہوئے اور آپ ﷺ کو غیرت آیا۔ چنانچہ آپ ﷺ نے رکانہ اور اس کے بھائیوں کو بلابھیجا، پھر آپﷺ نے لوگوں سے فرمایا:کیا تم رکانہ اور اس کے بھائیوں کو دیکھ رہے ہو شکل و صورت میں کس قدر مشابہ ہیں؟ یقیناً یہ سب اسی کی اولاد ہیں اور اس کی مردانگی میں کسی طرح کا شک و شبہہ نہیں جیسا کہ اُس کی قبیلہ مزینہ والی بیوی کا کہنا ہے۔ لوگوں نے کہا : ہاں ! آپ ﷺ نے عبد بن یزید سے کہا: اسے طلاق دے دو۔ اور ابو رکانہ سے آپ ﷺنےکہا کہ ام رکانہ اور رُکانہ کے بھائیوں کی ماں سے رجوع کرلو اس کو اپنی زوجیت میں واپس کر لو تو ابو رکانہ نے کہا کہ یا رسول اللہﷺ! میں نے اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا : میں جانتا ہوں اس کو ایک مجلس میں تین طلاق دی ہے، لیکن ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہیں، لہذا تو اس سے رجوع کر لے، اور اس آیت کی تلاوت فرمائی: ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ...﴾ ”اے نبی! (اپنی امت سے کہو کہ ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انہیں طلاق دو...“۔ اور مسند احمد میں ہے کہ رکانہ نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، جس کی وجہ سے بہت غمگین ہوئے، چنانچہ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک مجلس کی تین طلاقیں ایک ہی طلاق ہوتی ہے۔