جابر رضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے ساتھ بعض سفر میں نکلے، ایک رات ان کو آپ ﷺ سے کچھ ضرورت پڑگئی، چنانچہ خبر کرنے کے ليے آپ کے پاس آئے تو آپ کو نماز پڑھتے ہوئے پایا۔ جابر رضی اللہ عنہ کےجسم پر صرف ایک کپڑا تھا،تو انہوں نے اسے اپنے جسم پر لپیٹ کر اس کے دونوں کناروں کو اپنے کندھے پر ڈال ليا اور آپ کے پہلو میں کھڑے ہو کر نماز پڑھی ۔نماز سے فراغت کے بعد آپ ﷺ نے ان سے دير رات ميں آنے کا سبب پوچھا تو انھوں نے اپنی وہ حاجت بتلائی جس کی وجہ وہ آئے تھے۔ چنانچہ جب اپنی ضرورت بيان کر چکے تو آپ ﷺ نےکپڑے میں لپٹنے کے سلسلے میں ان پر نکیر، کیونکہ وہ تنگ تھا اور انھیں حکم ديا کہ اگر کپڑا کشادہ ہے تو اسے جسم کے اوپر نيچے تمام حصے پر لپيٹ کر کندھے پر ڈال لو۔ بائيں کنارے کو داہنے کندھے پر اور داہنےکنارے کو بائيں کندھے پر ڈال لو تاکہ ازار اور چادر بن جائے اور پورا جسم ڈھک جائے۔ تو يہ سب سےزيادہ ساتر اور ہيئت کے لحاظ سے سب سے خوبصورت ہے۔اور اگر کپڑا اتنا تنگ ہوکہ اس سے ازار اور چادر دونوں نہ بن سکے تو اس کو اپنی کمر پر باندھ کر ازار بنا لو تاکہ بدن کا نچلا حصہ ڈھک جائے۔