ابو بَرزہ رضی اللہ عنہ نے فرض نمازوں کے اوقات کا ذکر فرمایا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ نبی ﷺ زوالِ شمس کے بعد ظہر کی نماز پڑھتے تھے۔ یعنی جب سورج بیچ آسمان سے مغرب کی طرف مائل ہو جاتا۔ یہ ظہرکا اوّل وقت ہے۔ اور عصرکی نماز ایسے وقت میں پڑھتے کہ نماز سے فارغ ہوکر کوئی نمازی مدینے سے کافی دور پر واقع اپنے گھر کو لوٹ آتا اور سورج میں تپش باقی رہتی۔ یہ عصر کا اوّل وقت ہے۔ رہا مغرب کا وقت تو مذکورہ روایت کے راوی مغرب کا وقت بھول گئے۔ شریعت کے نصوص اور اجماع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ مغرب کا وقت غروبِ شمس سے شروع ہوتا ہے۔ آپ ﷺ عشا کو تاخیر سے پڑھنا پسند کرتے تھے؛ کیوں کہ عشا کا افضل وقت اسے اس کا آخری مختار وقت ہے۔ اور آپ ﷺ عشا سے قبل سونے کو ناپسند کرتے تھے؛ اس ڈر سے کہ کہیں بہتر وقت سے مؤخر نہ ہوجائے، سونے کی وجہ سے جماعت فوت نہ ہو جائے یا نیند میں استغراق کی وجہ سے رات کی نماز نہ چھوٹ جائے۔ اور عشا کے بعد گفتگو کرنے کو ناپسند فرماتے تھے کہ کہیں نمازِ فجر اپنے وقت سے مؤخر نہ ہو جائے یا جماعت نہ چھوٹ جائے۔ اور آپ ﷺ جب فجر کی نماز سے فارغ ہوتے، تو آدمی اپنے ساتھ بیٹھنے والے کو پہچاننے لگتا، باوجودیکہ آپ اس میں ساٹھ سے سو آیات تک پڑھتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ ﷺ اسے غلس یعنی اندھیرے میں پڑھتے تھے۔