زمانہ جاہلیت میں لوگ اپنی باندیوں پر کچھ رقم دینا لازم کر دیتے تھے جسے وہ بدکاری کرکے کماتی تھیں اور ان سے پیدا ہونے والے بچے کا اگر زانی دعوے دار ہوتا تو بچہ اس کی طرف منسوب کر دیتے تھے۔ عتبہ بن ابی وقاص نے زمانہ جاہلیت میں زمعہ بن اسود کی باندی کے ساتھ زنا کیا۔ اس سے ایک لڑکا پیدا ہو۔ عتبہ نے اپنے بھائی سعد رضی اللہ عنہ کو وصیت کی کہ وہ اس لڑکے کا نسب ان کے ساتھ ملا دیں۔ جب مکہ فتح ہوا اور سعد رضی اللہ عنہ نے اس بچے کو دیکھا تو اپنے بھائی کے ساتھ مشابہت کی وجہ سے اسے پہچان گئے اور اس کے نسب کو اپنے بھائی کے ساتھ جوڑنا چاہا لیکن اس پر ان کے اور عبد بن زمعہ کے مابین جھگڑا ہو گیا۔ سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی دلیل دی کہ ان کے بھائی نے یہ اقرار کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور ساتھ ہی ان کے مابین موجود مشابہت(بھی اس کی دلیل ہے)۔ عبد بن زمعہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ یہ میرا بھائی ہے، میرے باپ کی اولاد میں سے ہے، یعنی ان کے باپ (زمعہ بن اسود) اس باندی کے مالک ہیں جس نے اس بچہ کو جنا ہے، چنانچہ وہ صاحب فراش ہوئے۔ اس پر نبی ﷺ نے لڑکے کی طرف دیکھا تو آپ ﷺ کو اس کے اور عتبہ کے مابین صاف مشابہت نظر آئی۔ لیکن آپ ﷺ نے فیصلہ فرما دیا کہ یہ زمعہ کا بیٹا ہے کیونکہ قاعدہ یہ ہے کہ باندی کے پیٹ سے پیدا ہونے والا بچہ اس کے مالک کے تابع ہوتا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: بچہ بستر کی طرف منسوب ہوتا ہے جب کہ بدکاری کرنےوالے زناکار کے حصے میں محض محرومی اور خسارہ آتا ہے اور بچہ اس کی پہنچ سے دور رہتا ہے۔ تاہم آپ ﷺ کو اس لڑکےمیں جو عتبہ کی مشابہت نظر آئی تھی اس کی وجہ سے آپ ﷺ نے اس بات سے احتیاط کی کہ وہ اس نسب کی بنا پر اپنی بہن سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کی طرف دیکھے۔ چنانچہ آپ ﷺ نے بطور احتیاط اور ازراہِ تورع سودہ بنت زمعہ رضی اللہ عنہا کو اس سے حجاب کرنے کا حکم دیا۔ چنانچہ معلوم ہوا کہ ہم بستر ہونے کی موجودگی میں شباہت اور قرائن کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔