سعد بن خولہ رضی اللہ عنہ وفات پاگئے جب کہ ان کی بیوی سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا حاملہ تھیں۔ زیادہ عرصہ نہ گزرا کہ انہوں نے اپنے بچے کو جن دیا۔ جب وہ اپنے نفاس سے پاک ہو گئیں تو انہوں نے بناؤ سنگھار کیا۔ انہیں علم تھا کہ وضع حمل کے ساتھ ہی وہ اپنی عدت سے نکل چکی ہیں اور ان کے لیے دوسرے مردوں سے شادی کرنا جائز ہو گیا ہے۔ ایسے میں ابو السنابل رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ انہیں بنی سنوری دیکھ کر وہ سمجھ گئے کہ وہ شادی کا پیغام بھیجنے والوں کے لئے تیاری كی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اپنے اس خیال کی بنیاد پر ان کے اس عمل پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا کہ ان کی عدت ابھی ختم نہیں ہوئی اور انھوں نے قسم کھا کر کہا کہ ان کے لیے چار ماہ دس دن گزرنے سے پہلے نکاح کرنا جائز نہیں ہے کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا﴾ ”تم میں سے جو لوگ فوت ہوجائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں، وه عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس (دن) عدت میں رکھیں“۔ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کو اپنے علم کی صحت پر یقین نہیں تھا، جب کہ اس آنے والے شخص نے اپنی بات کی تاکید قسم اٹھا کر کی تھی۔ چنانچہ وہ نبی صلی اللہ عليہ وسلم ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ سے اس بارے میں دریافت کیا۔ آپ ﷺ نے انہیں فتوی دیا کہ وہ وضع حمل کے ساتھ ہی شادی کے لیے حلال ہو گئی تھیں۔ لھٰذا اگر وہ شادی کرنا چاہیں تو ان کو اجازت ہے، کیونکہ اللہ تعالی کا فرمان ہے: ﴿وَأولاتُ الأحمال أجلُهُن أن يضَعْنَ حَمْلَهُن﴾ ”اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل ہے“۔ چنانچہ جس عورت کا خاوند فوت ہو جائے اور وہ حاملہ ہو اس کی عدت بچہ جننے کے ساتھ ختم ہوجاتی ہے اور اگر وہ حاملہ نہ ہو تو پھر اس کی عدت چار ماہ اور دس دن ہے۔