رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے ذکر کیا کہ ان کے خاندان والے مدینے والوں میں سب سے زیادہ کھیتی باڑی اور باغبانی کرتے تھے۔ یہ جاہلیت کے طریقے کے مطابق زمین کو اجارہ پر دیتے تھے، زمین کھیتی باڑی کرنے کے لیے اس شرط پر دیتے تھے کہ ایک طرف کی پیداوار ان کی ہوتی تھی اور دوسری طرف کی کسان کی ہوتی، کبھی ایک کے حصے میں پیداوار ہوتی اور دوسرے کا حصہ ضائع ہو جاتا تھا۔ کبھی زمین کے مالک کو اچھی پیداوار مل جاتی جیسے نہروں اور نالوں والی جگہوں کی زمینوں کی پیداوار، تو کبھی یہ پیداوار خراب ہوجاتی اور دوسری محفوظ رہتی اور کبھی اس کے برعکس ہوتا تھا۔چنانچہ نبی کریم ﷺ نے اس میں غرر، جہالت اور ظلم کی وجہ سے ایسی بٹائی سے منع فرما دیا۔ اس لیے کہ عوض کا معلوم ہونا ضروری ہے بعینہ نفع اور نقصان میں بھی برابری ضروری ہے۔ اگر اس کے ایک حصے کو اجرت پر دیا جارہا ہے تو یہ شراکت داری ہوئی جس کی بنیاد نفع اور نقصان میں انصاف اور برابری کا تقاضہ کرتی ہے یا یہ کہ متعین تناسب کا معاملہ طے پائے جیسے چوتھائی یا آدھے حصے پر نفع تقسیم ہو۔ اور اگر زمین عوض کے بدلے ہو تو یہ اجارہ ہے۔ اس میں عوض کا معلوم ہونا ضروری ہے۔ یہ جائز ہے خواہ سونے کے بدلے ہو یا چاندی کے یا زمین سے ہونے والی پیداوار میں سے کھانے کے بدلے ہو خواہ کھانا اسی فصل کی جنس سے ہو یا دوسری جنس سے۔ اس لیے کہ یہ زمین کو اجارہ پر دینا ہے یا یہ درختوں میں مساقاۃ ہے یا پیداوار کے بدلے زمین دے کر مزارعت ہے۔ اور (اس کے جائز ہونے کی ایک وجہ) یہ ہے کہ اُس حدیث میں عموم ہے جس میں مذکور ہے کہ متعین اور قابلِ ضمانت چیز کے بدلے زمین دینے میں کوئی حرج نہیں۔