عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے حالتِ حیض میں اپنی بیوی کو طلاق دے دی۔ ان کے والد نے نبی ﷺ سے اس کا ذکر کیا، تو آپ ﷺ سخت غصہ ہوئے۔ کیوں کہ انھوں نے حرام طلاق دی تھی، جو سنت کے مطابق نہ تھی۔ آپ نے انھیں رجوع کرنے اور اپنے پاس روکے رکھنے کا حکم دیا، یہاں تک کہ وہ ماہ واری سے پاک ہو جائیں، پھر ماہ واری آئے اور پھر اس سے پاک ہوجائیں۔ اس کے بعد اب اگر وہ طلاق دینا چاہیں اور اپنے پاس باقی نہ رکھنا چاہیں، تو ان کے ساتھ ہم بستری سے پہلے طلاق دے سکتے ہیں۔ بس یہی وہ وقت ہے، جس میں اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔ حالتِ حیض میں طلاق کے وقوع کے متعلق علما کا اختلاف ہے؛ جب کہ حالت حیض میں دی ہوئی طلاق حرام اور غیر مسنون ہے۔ اس مسئلے میں قابل اطمئنان قول وہی ہے، جس پر ابوداؤد وغیرہ کی یہ روایت دلالت کرتی ہے: ”اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اسے شمار نہیں کیا“۔ جب کہ اس روایت میں وارد الفاظ نہ تو طلاق واقع ہونے کے بارے میں صریح ہیں اورنہ ہی اس بارے میں کہ اس کے شمار کرنے والے رسولﷺ ہیں۔ جب کہ ایک مشہور اور محکم حدیث میں ہے: ”جس نے کوئی ایسا کام کیا، جس کے بارے میں ہمارا حکم موجود نہیں ہے، تو وہ مردود ہے“۔