اس حدیث میں نبی ﷺ کے ایثار (اپنے آپ پر دوسروں کو ترجیح دینے) کا تذکرہ ہے۔ کیوں کہ آپ ﷺ نے اس چادر کے معاملے میں اپنی ذات پر اس شخص کو ترجیح دی، جب کہ آپ ﷺ کو اس كى ضرورت تھی۔ آپ ﷺ اس چادر کو پہن كر نکلے، يہ اس بات کی دليل ہے کہ آپ ﷺ کو اس کی سخت ضرورت تھی۔ ایک عورت نے آکر نبی ﷺ کو ایک چادر ہدیہ كيا۔ تو ایک شخص نے آگے بڑھ کر کہا کہ یہ کتنی خوبصورت ہے!۔ اور اس نے نبی ﷺ سے اسے مانگ لی۔ رسول الله ﷺ نے چادر کو اتار کر لپیٹا اور اسے دے ديا۔ بعض شارحین کا کہنا ہے کہ اس حدیث سے ماخوذ فوائد ميں سے يہ بھی ہے کہ نیک لوگوں کے آثار سے تبرک جائز ہے۔ حالانکہ یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ یہ تبرک تو آپ ﷺ کی ذات سے تھا ، فضیلت اور نیکی میں کسی اور کو آپ ﷺ پر قیاس نہیں کیا جا سکتا۔ علاوہ ازيں صحابۂ کرام آپ ﷺ کی حیات میں یا آپ کی وفات کے بعد کسی اور کے ساتھ ایسا نہیں کرتے تھے۔ اگر یہ اچھی بات ہوتی تو وہ ضرور اسے ہم سے پہلے کر چکے ہوتے۔