عمران بن حصین رضی اللہ عنہ عمرہ کے ساتھ حج (حجِ تمتع) کرنے کےبارے میں ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:اس کو کتاب اللہ اور سنت رسول میں مشروع قرار دیا گیا ہے۔ کتاب اللہ میں اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے: {فمن تمتع بالعمرة إلى الحج فما استيسر من الهدي}.’’جو شخص عمرے سے لے کر حج تک تمتع کرے پس اسے جو قربانی میسر ہو اسے کر ڈالے۔‘‘ جب کہ سنت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حج تمتع کیا،اس کو برقرار رکھا ،قرآن میں اس کی حرمت پر کوئی چیز نازل نہیں ہوئی اور نہ ہی رسول اللہﷺ نے اس سے منع فرمایا حتیٰ کہ رسول اللہﷺ دنیا سے چلےگیے اور یہ حکم باقی رہا اس کو منسوخ نہیں کیا گیا۔ تو پھر ایک آدمی اپنی رائے سے (ممانعت کی بات) کیسے کہہ سکتا اور اس سے (کیسے) روک سکتا ہے۔؟ اس سے ان کا اشارہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی طرف تھا جنھوں نے ایامِ حج میں اپنی اجتہاد سے اس سے منع کر دیا تھا تاکہ پورے سال زائرینِ بیت اللہ کثرت سے آتے رہیں، اس لیے کہ ان ایام میں جس تعداد میں لوگ جمع ہوتے ہیں موسم حج کے علاوہ اس طرح نہیں آتے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا منع کرنا بطورِ تحریم یا کتاب و سنت پرعمل کو ترک کرتے ہوئے نہیں تھا بلکہ عمومی مصلحت کا خیال کرتے ہوئے عارضی طور پر منع کردیا تھا۔