نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ ایک سفر میں تھے۔ شاید انھوں نے اس جگہ پر پڑاؤ کیا، جو مر الظہران کے نام سے معروف ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے صحابہ کے ساتھ اس جگہ پر فتح مکہ کے سال پڑاؤ کیا تھا۔ انھوں نے ایک خرگوش کو بدکایا تو وہ بھاگ اٹھا۔ لوگ اس کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے دوڑ پڑے۔ انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ وہ سب تو تھک کر رک گئے، لیکن میں نے اسے جا لیا۔ انس بن مالک رضی اللہ عنہ اس وقت عین جوانی میں تھے۔ اسے پکڑ کر اپنے سوتیلے والد ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے۔ انھوں نے اسے ذبح کیا اور اس میں سے کچھ گوشت یعنی رانیں اور پٹھے آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کی۔ "ورک" اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں پٹھا، ٹانگ کے جوڑ سے ملتی ہے۔ آپ ﷺ نے اسے قبول فرمایا اور شاید اس میں سے تناول بھی فرمایا۔