نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے تبوک سے, وہاں غزوہ کے دونوں میں اپنى موجودگى کے دوران, خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک سریہ کے ساتھ اکیدر کی جانب بھیجا۔ تو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے اسے گرفتار کر لیا اور اس کے قلعے کو فتح کر لیا نیز اسے لے کر مدینہ پہنچے، لیکن رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اسے اسلام قبول کرنے پر مجبور نہیں کیا، بلکہ اس پر جزیہ نافذ کرکے اسے اس کے وطن واپس کر دیا، حالانکہ وہ اہل عرب میں سے تھا۔