اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے ایک اونٹنی پر بیٹھ کر حج کیا، جس کی پیٹھ پر ایک پرانا اور بوسیدہ کجاوہ رکھا ہوا تھا اور اس کے اوپر ایک کپڑا بچھا تھا، جس کی قیمت چادر درہم یا اس سے بھی کم تھی۔ پھر آپ نے فرمایا : اے اللہ! میں اپنا یہ حج اس لیے نہیں کر رہا ہوں کہ لوگ مجھے دیکھیں یا میرے بارے میں سنیں۔ اسے صرف اور صرف تیری رضا جوئی کے لیے کیا جا رہا ہے۔