حدیث کا مفہوم: حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ مسجد میں شعر پڑھ رہے تھے کہ عمر رضی اللہ عنہ بھی وہاں پہنچ گیے اور ان کو ناپسندیدہ نظروں سے دیکھا۔ جب حسان رضی اللہ عنہ نے ان کو اس طرح دیکھا تو ان سے کہا کہ:میں مسجد میں شعر پڑھا کرتا تھا اور اس وقت مسجد میں وہ موجود ہوتے تھے جو آپ سے بہتر ہیں(یعنی رسول اللہﷺ)۔ ”پھر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے گواہی طلب کی“ یعنی ان سے گواہی دینے کا سوال کیا کہ جو وہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی میں ان کے شعر پڑھنے کے حوالے سے جانتے تھے اور رسو ل اللہ ﷺ نے اس کو برقرار رکھا اور ان کی شعر گوئی پر حوصلہ افزائی فرمائی تھی۔فرمایا: ”تجھے اللہ کی قسم“ یعنی میں اللہ کی قسم اور اس کا حلف دے کر پوچھتا ہوں: کیا تو نے رسول اللہﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: ”اے حسان!رسول اللہﷺ کی طرف سے جواب دو“ یعنی مشرکین کے شعراء کو اپنے شعروں سے جواب دو اور نبی کریمﷺ کا دفاع اور اس کے دین کی مدد کرتے ہوئے ان کی ہجو بیان کرو۔ اور کیا تم نے یہ فرماتے ہوئے بھی سنا تھا: ”اے اللہ ! روح القدس کے ذریعے ان کی مدد فرما“ یعنی جبریل علیہ السلام کی قوت کے ساتھ۔ جبریل علیہ السلام ان کو شعر الہام کرتے جو کہ دشمنان اسلام پر تیروں کی طرح لگتے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:ہا، یعنی میں نے تمھیں رسول اللہ ﷺ کے سامنے مسجد میں شعر پڑھتے ہوئے بھی سنا اور میں نے (رسولﷺ کو) یہ فرماتے ہوئے بھی سنا ہے۔