بنیادی اصول یہ ہے کہ اجنبی عورت اجنبی مردوں پر حرام ہے۔ لیکن ان مجاہدین کی عورتوں کے بارے میں حرمت اور بھی زیادہ بڑھ جاتی ہے، جو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے نکلے ہیں اور اپنی بیویوں کو پیچھے چھوڑ کر گئے ہیں، اور مقیم لوگوں کو ان پر امین بناکر گئے ہیں۔ لہٰذا ان پر واجب ہے کہ مجاہدین کی بیویوں کی عزتیں پامال کرنے سے ڈریں، نہ ان کے ساتھ تنہائی میں رہیں، نہ ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کوئی بے ہودہ گفتگو کرے، کیوں کہ وہ ان پر اسی طرح حرام ہیں جیسے ان کی اپنی مائیں ان پر حرام ہیں۔ چنانچہ اللہ کے رسول ﷺ نے واضح فرمادیا کہ انسان کے اوپر لازم ہے کہ ان کے حقوق ادا کرے اور ان کے معاملے میں خیانت نہ کرے، نہ تو ان کی طرف دیکھے اور نہ ہی کسی حرام چیز کے ارتکاب کی کوشش کرے۔ اور نہ ہی ان کی دیکھ بھال کرنے، ان سے ہمدردی و بھلائی کرنے اور ان سے نقصان کو دور کرنے میں کوئی کوتاہی کرے۔ ”ما من رَجُلٍ من القَاعِدِين يَخْلِف رجُلا من المجاهدين في أهله، فَيَخُونُهُ فيهم إلا وقَف له يوم القيامة، فيأخذ من حسناته ما شاء حتى يَرْضى“ یعنی جس شخص نے مجاہدین کی عدم موجودگی میں ان کی بیویوں پر جسارت کیا اور ان کی بیویوں کے معاملے میں ان کے ساتھ خیانت کیا، تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجاہد کو خیانت کرنے والے پر قادر بنا دے گا، چنانچہ وہ مجاہد اس خائن کی نیکیوں میں سے جس قدر چاہے گا، لے لے گا یہاں تک کہ وہ راضی ہوجائے گا اور اس کی آنکھ ٹھنڈی ہوجائے گی۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا ”فما ظنكم“ (تو تمہارا کیا خیال ہے؟)یعنی اس مقام پر مجاہد کے اس کی نیکیوں کو لینے کی خواہش اور انہیں زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ یعنی ان نیکیوں میں سے کچھ بھی باقی نہیں رہ جائے گی، وہ سب لے لے گا۔