اس حدیث میں نماز کے شعار کو بیان کیا گیا ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور عظمت کا اثبات ہے، یہ تکبیر سے ثابت ہوتی ہیں۔ مطرِّف نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اور عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، وہ سجدے کے لیے جھکتے ہوئے تکبیر (اللہُ اکبر) کہتے، پھر سجدے سے اٹھتے ہوئے تکبیر کہتے، جب دو تشہدوں والی نماز میں پہلی تشہّد سے کھڑے ہوتے تو قیام کی حالت میں تکبیر کہتے، بہت سے لوگوں نے ان مواقع میں بلند آواز سے تکبیر کہنی چھوڑ دی ہے۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو عمران رضی اللہ عنہ نے مطرّف کو ہاتھ سے پکڑا اور فرمایا کہ علی رضی اللہ عنہ نے اپنی نماز سے ہمیں آپ ﷺ کی نماز یاد دلادی، کہ آپ ﷺ ان مواقع میں تکبیر کہا کرتے تھے۔