نبی ﷺ نے بتایا کہ مردوں میں سے ریشم صرف وہی پہنتا ہے جس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہو۔ اس میں سخت وعید ہے کیونکہ ریشم عورتوں اور جنتیوں کا لباس ہے اور دنیا میں اسے صرف وہی لوگ پہنتے ہیں جن میں تکبر، خود پسندی اور غرور ہو۔ اسی وجہ سے اس کے پہننے سے منع کیا گیا ہے۔ یہ ممانعت قدرتی ریشم سے متعلق ہے تاہم انسان (مرد) کے لیے مناسب یہی ہے کہ وہ مصنوعی ریشم بھی نہ پہنے کیونکہ اس میں نسوانیت کی جھلکہوتی ہے، البتہ یہ حرام نہیں ہے، جیسا کا دائمی کمیٹی برائے فتوی (سعودی عرب) نے مصنوعی رشیم کے مباح ہونے کا فتوی دیا ہے۔