اس حدیث کی دونوں روایت میں ہے کہ صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے نبی ﷺ سے ان نیکی اور بھلائی کے کاموں کے بارے میں دریافت کیا جو اجر و ثواب کے لحاظ سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہیں۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ یعنی وہ عمل جو جہاد کے مساوی ہے تم میں اس کے کرنے کی طاقت نہیں ہے۔ اس پر صحابہ نے آپﷺ سے دو یا تین بار یہی سوال کیا اور آپ یہی فرماتے رہے کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ پھر آپ ﷺ نے ان کے سامنے اس عمل کی وضاحت فرمائی جسے وہ نہیں کر سکتے تھے اور وہ یہ تھا کہ بغیر کسی وقفے اور انقطاع کے پابندی کے ساتھ مسلسل روزہ رکھنا، نماز پڑھنا اور قرآن کی تلاوت کرنا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ عمل انسان کی وسعت سے باہر ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے آغاز ہی میں ان سے فرمایا کہ تم وہ نہیں کر سکتے۔ بخاری شریف کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ اسے کوئی ایسا عمل بتائیں جو قدر و منزلت اور اپنے اجر و ثواب کے اعتبار سے جہاد فی سبیل اللہ کے مساوی ہو۔ آپ ﷺ نے انہیں فرمایا کہ میرے نزیک تو ایسا کوئی نہیں ہے۔ یعنی میرے علم میں تو کوئی ایسا عمل نہیں جو جہاد کی طرح کا ہو یا اس کا ہم پلہ ہو۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کے راستے میں جہاد کے لیے ایک صبح یا ایک شام کے لیے نکلنا دنیا وما فیہا سے بہتر ہے۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم ایسا کر سکتے ہو کہ جب مجاہد جہاد کے لیے نکلے تو تم اپنی جائے نماز پرچلے جاؤ اور پھر ہمیشہ عبادت میں لگے رہو۔ بغیر کسی انقطاع کے نماز پڑھو اورمسلسل روزہ رکھو۔ اگر ایسا کرنا ممکن ہو تو صرف یہی ایک عمل ہے جو جہاد کے مساوی ہو سکتا ہے۔ اس پر اس شخص نے کہا کہ اس کی کون استطاعت رکھتا ہے!۔ یعنی کون ہے جو بغیر انقطاع کے مسلسل نماز پڑھ سکتا ہے اور بنا افطار (بریک) کیے روزہ رکھ سکتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ کام انسانی قدرت سے بالا تر ہے۔