نبی کریم ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ کی طرف چلے۔ قربانی کے جانور ساتھ تھے۔ (اسی موقعے پر) علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ یمن سے آئے۔ ان کے ساتھ بھی قربانی کے جانور تھے۔ چوں کہ یہ فقرا اور مساکین کے لیے صدقہ تھے، اس لیے قربانی کرنے والے کو اس میں تصرف کرنے یا اس میں سے کچھ بطور معاوضہ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ چنانچہ آپ نے انھیں ذبح کرنے والے کو بطور معاوضہ اس میں سے کچھ دینے سے منع فرمایا۔ بلکہ بطور اجرت گوشت، کھال اورجھول کے علاوہ کوئی دوسری چیز دی جائے گی۔