نبی کریم ﷺ عرفات سے (مزدلفہ کی طرف ) روانہ ہوئے، آپ نے اپنے پیچھے بلند آوازوں کے ساتھ اونٹوں کے ہانکنے اور مارنے کا شور و غل سنا، لوگوں نے ايسا اس ليے کيا کيونکہ وہ زمانۂ جاہليت ميں اسی کے عادی تھے. زمانۂ جاہليت ميں لوگ جب عرفہ سے نکلتے تھے تو بہت تيز چلتے تھے تاکہ تاريکی چھا جانے سے پہلے ہی وہاں سے کوچ کرجائیں، اس لیے وہ انٹوں کو بری طرح مارتے تھے۔ لہذا نبی ﷺ نے اپنے کوڑے سے لوگوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ اے لوگو! سکون واطمینان کو لازم پکڑو کیونکہ تيز رفتاری اور تیزروی نیکی اور بھلائی کا کام نہیں ہے۔