اس حدیث میں ایسے کافر حربی شخص کے متعلق اسلام کا قانون بتایا جا رہا ہے، جو مسلمانوں کی جاسوسی کرتا ہو۔ سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: نبی کریم ﷺ کے پاس مشرکین کا ایک جاسوس آیا۔ "العین" یعنی جاسوس۔ اسے یہ نام اس لیے دیا گیا کہ وہ آنکھ ہی سے کام کرتا ہے یا دیکھنے میں اس قدر منہمک رہتا ہے کہ سراپا آنکھ بن جاتا ہے۔ اس وقت آپﷺ سفر پر تھے۔ چنانچہ جاسوس صحابہ کے درمیان بیٹھ کر باتیں کرنے لگا۔ پھر وہاں سے کھسک گیا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس کو تلاش کرو اور قتل کر دو۔ چنانچہ میں نے اسے تلاش کر کے پکڑ لیا اور قتل کر دیا۔ آپ نے مجھے اس کا سامان بطور نفل دے دیا۔ نفل وہ غنیمت کا وہ مال ہے، جو کسی مجاہد کو اس کے حصے سے زیادہ دیا جائے۔ "سلب" یعنی اس کے کپڑے اور ہتھیار وغیرہ۔ انھیں "سلب" اس لیے کہا جاتا ہے؛ کیوں کہ انھیں چھینا جاتا ہے۔ "سلب" میں سواری، اس کا زین، ہتھیار، چوپایے پر موجود مال اور ان کے ساتھ موجود سونا چاندی وغیرہ سب شامل ہیں۔